ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ ایران مغربی ممالک کی طرف سے نیک نیتی اور سنجیدگی دکھائے جانے کی صورت میں منصفانہ اور متوازن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ کو لکھے گئے خط میں اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایران ہمیشہ منصفانہ اور بااعتماد سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے۔
تاہم دوسرے فریقین کو بھی ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو مذاکرات کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے تہران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے عمل کا آغاز کیا ہے، جسے ایران نے غیر معقول اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔
تینوں یورپی ممالک نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ ایران نے جوہری پروگرام سے متعلق وعدوں کی پاسداری نہیں کی، ایران 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔