امریکا نے غزہ کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا

امریکا نے غزہ کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں غزہ کی جنگ کے بعد کے منصوبے پر ایک بڑے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ یہ بات ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتائی۔ رائٹرز کے مطابق وٹکوف نے کہا کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان جاری جنگ اس سال کے آخر تک ختم ہو جائے گی۔

ان کے بقول وائٹ ہاؤس میں بلایا گیا اجلاس ایک “جامع منصوبے” کے حوالے سے ہے جو جنگ کے بعد غزہ کے مستقبل پر مرکوز ہوگا، تاہم انہوں نے اجلاس کے شرکاء یا منصوبے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل حماس کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہے اور حماس نے بھی کسی سمجھوتے کے لیے لچک دکھائی ہے۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو آج سہ پہر واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار سے ملاقات کریں گے، جو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں شیڈول ہے۔

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم اور جنوری 2025 میں صدارت سنبھالنے کے بعد غزہ جنگ کے جلد خاتمے کا وعدہ کیا تھا، مگر تقریباً سات ماہ گزرنے کے باوجود یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔

ٹرمپ کے دور کا آغاز ایک جنگ بندی سے ہوا جو صرف دو ماہ برقرار رہی، تاہم 18 مارچ کو اسرائیلی فضائی حملوں میں 400 کے قریب فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد یہ ٹوٹ گئی۔

حالیہ دنوں میں غزہ میں بھوک سے نڈھال بچوں اور عام شہریوں کی تصاویر نے دنیا بھر میں ہمدردی اور اسرائیل پر شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔

پس منظر

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی کارروائیوں میں 62 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس جنگ نے غذائی بحران کو جنم دیا اور پوری آبادی کو بے گھر کردیا۔ اسرائیل پر نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات عائد ہوئے ہیں جنہیں اسرائیل مسترد کرتا ہے۔

یہ حالیہ تشدد اس وقت شروع ہوا جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1200 افراد مارے گئے اور تقریباً 250 کو یرغمال بنایا گیا۔




Courtesy By Such News

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top