یوکرین نے روس کے سب سے بڑے جوہری پلانٹس میں سے ایک پلانٹ پر ڈرون حملہ کیا اور اوست لوگا فیول ایکسپورٹ ٹرمینل پر بدترین آگ لگ گئی ہے۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق روسی عہدیداروں نے بتایا کہ یوکرین نے روس پر ڈرون حملہ کردیا ہے، جو روس کے سب سے بڑے جوہری پلانٹس میں سے ایک پر گرا اور ٹرمینل پر آگ لگی ہے۔
روس کی وزارت دفاع نے بتایا کہ روس کے ایک درجن سے زیادہ مقامات پر یوکرین کے تقریباً 95 ڈرونز ناکارہ بنا دیے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ کرسک جوہری پلانٹ یوکرین کی سرح سے محض 60 کلومیٹر دور ہے جہاں ایئرڈیفنس نے ایک ڈرون مار گرایا جس سے پلانٹ کے قریب دھماکا ہوا اور اس کے نتیجے میں ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچا اور ری ایکٹر نمبر 3 پر سرگرمیاں 50 فیصد کم ہوگئی ہیں۔
پلانٹ کی جانب سے کہا گی اکہ تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے اور آگ سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا جبکہ دو دیگر ری ایکٹرز پاور جنریشن کے بغیر کام کر رہے ہیں اور تیسرے کی معمول کی ری پیئرنگ کی جا رہی ہے۔
صوبائی گورنر الیگزینڈر ڈروزڈینکوکی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خلیج فن لینڈ پر ایک ہزار کلومیٹر شمال میں روسی خطے لینن گراڈ میں اوسٹ لوگا کے علاقے کی فضا سے یوکرین کے 10 ڈرونز مار گرائے گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ نواٹیک کے زیرانتظام ٹرمینل میں گرائے گئے ڈرونز کے ملبے میں آگ لگی جہاں انتہائی ایکسپورٹ ٹرمینل اور پروسیسنگ کمپلیکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ فائر فائٹرز ار ایمرجنسی سروسز آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
روسی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ حملوں کے بعد روس کے کئی ائیرپورٹس پر پروازیں روک دی گئیں، جس میں لینن گراڈ ریجن میں واقع ایئرپورٹ پلکوو بھی شامل ہے۔
اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے بیان میں کہا کہ وہ ان رپورٹس سے آگاہ ہیں کہ مذکورہ پلانٹ پر ٹرانسفارمر پر عسکری سرگرمی کے دوران آگ لگی ہے۔
آئی اے ای اے نے اپنے بیان میں زور دیا کہ تمام جوہری تنصیبات کو ہر وقت محفوظ رکھنا چاہیے۔
ادھر سمارا ریجن کے گورنر نے بتایا کہ یوکرین نے روس کے جنوبی شہر سیزران میں انڈسٹریل انٹرپرائز پر بھی ڈرون حملہ کیا، جس میں ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔
یوکرین نے روس پر ڈرون حملہ اپنے یوم آزادی کے موقع پر کیا جو سوویت یونین سے 1991 میں حاصل کی تھی۔
دوسری طرف یوکرین اور روس کے درمیان امن معاہدے کے لیے بھی مذاکرات جاری ہیں لیکن یوکرین کی جانب سے بڑا ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔