انڈونیشیا: احتجاج کے دوران لگنے والی آگ میں 3 ہلاک

انڈونیشیا: احتجاج کے دوران لگنے والی آگ میں 3 ہلاک


انڈونیشیا میں احتجاج کرنے والوں کی جانب سے کونسل کی عمارت کو آگ لگادی گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایک مقامی عہدیدار نے ہفتے کو بتایا کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب پورے ملک میں ایک شخص کی موت کے بعد مظاہرے پھوٹ پڑے جسے پولیس کی گاڑی نے ٹکر ماری تھی۔ جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت کے بڑے شہروں بشمول دارالحکومت جکارتہ میں احتجاج کیا گیا، یہ مظاہرے ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شروع ہوئے، جس میں دیکھا گیا کہ موٹر سائیکل کو پولیس کی بکتر بند گاڑی نے کچل دیا، یہ واقعہ اس وقت ہوا جب لوگ کم اجرتوں اور قانون سازوں کے لیے مالی مراعات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

سولاویسی کے مشرقی جزیرے کے سب سے بڑے شہر ماکاسر میں احتجاج شدت اختیار کر گیا، جہاں صوبائی اور مقامی کونسل کی عمارتوں کے باہر ہنگامے پھوٹ پڑے، مظاہرین نے دونوں عمارتوں کو آگ لگا دی اور پتھر اور پیٹرول بم پھینکے۔ ماکاسر سٹی کونسل کے سیکریٹری رحمت ماپاتوابا نے اے ایف پی کو بتایا کہ کونسل کی عمارت میں لگی آگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین نے آگ لگائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عام طور پر مظاہروں کے دوران لوگ صرف پتھر پھینکتے ہیں یا ٹائر جلاتے ہیں، انہوں نے کبھی عمارت پر دھاوا نہیں بولا یا اسے جلایا نہیں۔ رحمت ماپاتوابا نے کہا کہ کونسل کے 2 ملازمین کی موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ ایک اور سرکاری ملازم ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

رحمت نے مزید کہا کہ آگ میں کم از کم 4 افراد زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ مقامی میڈیا پر شائع ہونے والی فوٹیج میں سیکڑوں افراد کو خوشی سے تالیاں بجاتے اور نعرے لگاتے دکھایا گیا، جب عمارت آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھی اور سیکیورٹی فورسز شاذونادر ہی نظر آئیں۔

ایک شخص کو چیختے ہوئے سنا گیا کہ ’اوپر لوگ ہیں!‘ اندر مظاہرین نے کئی مقامات پر آگ لگا دی اور عمارت کے کچھ حصے زمین بوس ہو گئے، جبکہ دیگر افراد نے شیشے توڑ ڈالے اور ’انقلاب‘ کے نعرے لگائے۔




Courtesy By Such News

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top