امریکی اپیلز کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے متعدد عالمی ٹیرفز کو غیر قانونی قرار دے دیا، تاہم انہیں فی الحال نافذ رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فیڈرل سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے 7-4 کے فیصلے نے ماتحت عدالت کے مؤقف کی توثیق کی کہ ٹرمپ نے ہنگامی اقتصادی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر ٹیرفز لگا کر اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اپیل دائر ہونے تک یہ ٹیرفز 14 اکتوبر تک نافذ رہیں گے۔
فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ یہ فیصلہ امریکہ کے لیے نقصان دہ ہے۔
ان کے مطابق، “تمام ٹیرفز ابھی بھی نافذ ہیں، اپیلز کورٹ نے غلط اور جانبدارانہ فیصلہ دیا ہے، سپریم کورٹ کی مدد سے ٹیرفز کو ملک کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ وہ ٹیرفز کو اپنی اقتصادی پالیسی کا اہم ہتھیار بنانا چاہتے تھے۔
اس فیصلے سے یورپی یونین اور دیگر بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ معاہدوں پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔
یہ بھی غیر یقینی ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ نہ دیا تو ان ٹیرف کے تحت جمع کیے گئے اربوں ڈالرز کا مستقبل کیا ہوگا۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کیے تھے جن کا مقصد امریکی معیشت کو مضبوط بنانا تھا۔