امریکہ نے آج سے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف کا اطلاق کر دیا ہے، جس کے بعد بھارت پر مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیا۔ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اضافی ٹیرف سے کئی بھارتی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی، جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں تناؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ یہ اضافی ٹیرف روس-یوکرین جنگ کے دوران بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری کے جواب میں لگایا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 اگست کو اعلان کیا تھا کہ بھارت اچھا تجارتی پارٹنر نہیں ہے اور روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کے باعث اس پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق بھارت کی یہ خریداری یوکرین میں جنگی مشین کو ایندھن فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب روس میں بھارت کے سفیر ونے کمار نے کہا ہےکہ بھارت کو بھی جہاں سے سستا تیل ملے گا وہیں سے خریدے گا۔