جاپان کے صوبہ آئچی کے شہر ٹویوآکے میں ایک منفرد اور متنازع مسودۂ قانون زیرِغور ہے جس کا مقصد رہائشیوں کے اسکرین ٹائم کومحدود کرنا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق شہرکے میئرنےاعلان کیا ہے کہ بلدیہ جلد ہی اس مجوزہ قانون پرووٹنگ کریگی، قانون کی منظوری کی صورت میں شہریوں کواسکول یا کام کے اوقات کے علاوہ روزانہ صرف دو گھنٹے تک اسمارٹ فون، ٹیبلٹ یا کمپیوٹرکے استعمال کی اجازت ہوگی۔
پاکستان نے اے آئی منصوبوں کے لیے 30 فیصد فنڈ مختص کردیا
اس کے علاوہ مسودے میں تجویزدی گئی ہے کہ پرائمری اسکول کے بچوں کو رات 9 بجے کے بعد اورمڈل اسکول یا اس سے بڑی عمرکے بچوں کورات 10 بجے کے بعد اسکرین کے استعمال سے روک دیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کی صحت، نیند، تعلیم اورسماجی تعلقات کو بہتربنانا ہے تاہم مجوزہ قانون پرعوامی آراء تقسیم ہیں اورشہریوں کی جانب سے اس پربحث جاری ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ جاپان میں کسی شہرنے اس حد تک اسکرین ٹائم کو ضابطے میں لانے کا قدم اٹھایا ہے۔