معاشی استحکام کے سفر میں آرمی چیف کا بھرپور تعاون رہا، وزیراعظم

معاشی استحکام کے سفر میں آرمی چیف کا بھرپور تعاون رہا، وزیراعظم


وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کی قیمتیں کم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کے سفر میں آرمی چیف کا بھرپور تعاون رہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سب کا شکرگزار ہوں کہ عید کی چھٹیوں سے اگلے دن پورے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے یہاں تشریف فرما ہیں،انہوں نے کہا کہ عید کے موقع کی مناسبت سے، پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کے حوالے سے ادنیٰ خوشخبری سنانے آیا ہوں۔

انہوں نے کہاکہ وعدہ پورا ہوا جو مسلم لیگ کے قائد محمد نواز شریف نے اپنے منشور میں اس کا اعادہ کیا تھا کہ اللہ نے موقعہ دیا تو معاشی میدان میں ترقی کی منازل طے کریں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا دنیا کے مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ماضی کے حوالے سے کچھ گزارشات کرنا چاہوں گا، ہم نے پر خطر، انتہائی دشوار گزار سفر کا مقابلہ کیسے کیا اور کن کن چیلنجز کا سامنا کیا، جب حکومتی ذمہ داری سنبھالی تو پاکستان پر دیوالیہ ہونے کی تلوار لٹک رہی تھی۔

وزیراعظم نے مزید کہاکہ کاروباری حضرات اور پوری قوم خوفزدہ تھی کہ حالات کس کروٹ بیٹھیں گے، عدم استحکام عروج پر تھا، آئی ایم ایف بات سننے کو تیار نہیں تھا، امپورٹس کے لیے ایل جی کھولنے کے لیے بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، بعض اوقات مجھے خود ایل جی کھولنے میں مشکلات تھیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ کے کنارے لانے کے لیے، افراتفری کا شکار کرنے والے خوشی سے مرے جارہے تھے، انہیں یقین کی حد تک یہ بات پختہ ہوگئی تھی ان کے ذہنوں میں کہ کچھ ہوجائے اب پاکستان کو ڈیفالٹ سے نہیں بچایا جاسکتا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس میں وہ سب حدیں پار کر گئے، یہ وہی ٹولہ ہے جس نے آئی ایم ایف سے کیے اپنے معاہدے کو خود توڑا، اسے معطل کر دیا گیا، پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے دن رات کی کوششوں میں پہاڑ نما رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔

انہوں نے انتہائی گھناؤنا کردار ادا کیا، اپنی سیاست کو بچانے کے لئے ریاست پاکستان کے مفادات کو قربان کر دیا، وزیر اعظم نے کہا کہ سمجھتا ہوں یہ وہ اللہ کی کمال مہربانی ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، گھٹا ٹوپ اندھیروں سے یہ معیشت نکل آئی، ملک میں معاشی استحکام آچکا ہے۔

شمالی وزیرستان میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت

انہوں نے کہا کہ میرے قائد نواز شریف کی قدم قدم پر میری رہنمائی ساتھ رہی، اس حقیقت کا کھلے دل سے اعتراف نہ کروں تو جدوجہد اور قربانی کی کہانی نامکمل رہے گی، آرمی چیف کا میری ٹیم کی سپورٹ میں کلیدی کردار رہا، سب کی کاوشیں منظور ہوئیں، ہم آج استحکام کے اس سفر پر ہیں، جن میں ہم استحکام لے کر آئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی ترقی و استحکام کا سفر جاری ہوا چاہتا ہے، سمجھتا ہوں عوام نے پچھلے مرحلے میں بہت قربانیاں دیں، وہ وقت تھا کہ پنشن لینے والا جب بجلی کا بل ادا کرتا اسے علم نہ تھا کہ وہ بچے کی دوا کہاں سے لائے، بجلی کا بل آنے پر اس کے گھر میں بے چارگی اور افسردگی کا عالم ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے کہ کوئی گاہک نہیں آتا تھا، کاروباری حضرات کاروبار بند کرنے پر مجبور تھے، ہمیں احساس ہر وقت ہونا چاہیے کہ عام آدمی کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے، قوم کے لیے عید کا تحفہ پیش کرنے جارہا ہوں، پوری قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتا ہوں، جن مسائل نے ہمیں غربت کی طرف دھکیلا انہیں جڑ سے کاٹ نہ پھینکا تو آئندہ کا ریلیف بے معنی ہوجائے گا۔



Courtesy By HUM News

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top