اسلام آباد: (ہیڈ ہم انویسٹی گیشن: زاہد گشکوری) پاکستان میں قدرتی آفات اور سیلابی تباہی کے بعد متاثرین کی بحالی کے دعوے اور کھربوں روپے کے منصوبوں کیا بنا؟ یہ وہ سوال ہے کہ یہ خطیر رقم آخر گئی کہاں؟
ہم انوسٹی گیشن ٹیم کی خصوصی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ پچھلے 10 برسوں میں سیلاب متاثرین کی بحالی پر 375 بڑے منصوبوں کے لیے 850 ارب روپے خرچ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اور گزشتہ 3 سال میں سیلاب متاثرین کی بحالی پر 316 بڑی چھوٹی اسکیموں کے لیے 250 ارب روپے مختص کیے گئے۔
جہاں ان منصوبوں کی تکمیل کی بات آتی ہے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان کے تحت 316 اسکیموں کے لیے 250 ارب درکار تھے۔ 2022 کے بعد 164 اسکیموں کے لیے 194 ارب مختص کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ لیکن تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔
سندھ میں ورلڈ بینک کے تعاون سے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا گیا۔ مگر 31 اسکیموں میں سے کوئی ایک اسکیم بھی اپنے سوفیصد اہداف حاصل نہ کر سکی۔ منصوبے کے لیے وصول کیے گئے 202 ملین ڈالرز کا بیشتر حصہ یا تو غلط استعمال ہوا یا ضائع کر دیا گیا۔ اور اگست 2024 میں یہ منصوبہ ناکام قرار دے کر بند کردیا گیا۔
بلوچستان کے آواران میں سعودی عرب کی مدد سے 8 ہزار ماڈل گھر بنانے تھے۔ لیکن 8 سال گزرنے کے باوجود صرف چند گھر ہی بن سکے۔ اور 13 لاکھ ڈالر گرانٹ کا معاہدہ بھی تاخیر کا شکار ہے۔
ادھر خیبرپختونخوا میں یو ایس ایڈ کے 18 منصوبے شروع ہوئے۔ لیکن صوبائی تعمیراتی و بحالی اتھارٹی بروقت عمل درآمد نہ کراسکی۔ اور خطیر گرانٹ ضائع ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا سیلاب متاثرین کو اسکولوں میں منتقل کرنے کا حکم
ریسکیو 1122 کے لیے ایمبولینس خریداری میں بھی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ سب سے سنگین انکشافات نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے آڈٹ میں سامنے آئے ہیں۔ اربوں روپے کے غیر شفاف ٹھیکے، ضرورت سے زیادہ ادائیگیاں، ٹیکس چوری اور ساز و سامان کی خریداری میں خورد برد سامنے آئی۔
بتایا گیا کہ صرف گزشتہ سال ہی بعض کمپنیوں کو اربوں روپے کی زائد ادائیگیاں کی گئیں۔ اور مزید یہ کہ 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی دی گئی گرانٹ بھی متاثرین تک نہ پہنچ سکی۔ خریدے گئے ہیٹرز اور میٹس تقسیم ہی نہیں ہوئے۔ بلکہ سامان ترکی اور شام بھیجے جانے کا انکشاف بھی ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فنڈز شفافیت سے استعمال ہوتے۔ تو آج لاکھوں متاثرین کے گھر دوبارہ آباد ہوسکتے تھے۔ مگر اربوں روپے کے منصوبے فائلوں اور بند کمروں تک محدود ہیں۔
ہم انوسٹی گیشن ٹیم نے این ڈی ایم اے، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان حکومت سے مؤقف لینے کی کوشش کی تاہم وہاں سے تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔ اس سوال کا جواب بھی ابھی تک کوئی نہیں دے سکا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے دیئے گئے 250 ارب روپے آخر گئے کہاں؟
سیلابی نقصانات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ مگر متاثرین کی بحالی اور فنڈز کی شفاف تقسیم ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ مؤقف کے لیے ان تمام اداروں کو لکھا گیا تھا لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود جواب نہیں آیا۔