اسلام آباد (تجزیہ: فرحان بخاری): جیسے جیسے پاکستان میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلابوں کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی سامنے آ رہی ہے۔ مستقبل میں درپیش چیلنجز ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں۔
خیبر پختونخوا (کے پی) اور اب پنجاب کے بڑے حصوں میں بہنے والا سیلابی پانی پہلے کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ اور اب پاکستان کے آفات سے نمٹنے والے حکام جنوبی صوبہ سندھ میں متوقع نقصانات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی تیاری کر رہے ہیں۔ ان متاثرہ علاقوں کا دائرہ ملک کے بڑے حصے پر محیط ہے۔
وقت کی کمی کے باعث، حکومتی اہلکاروں کو بڑے شہروں کو بچانے کیلئے حفاظتی بند توڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ نتیجتاً پاکستان کے درجنوں دیہات تباہ ہو گئے۔ جبکہ پہلے سے ہی کمزور زرعی شعبہ غیر معمولی طور پر شدید متاثر ہوا ہے۔
جیسا کہ کئی دنوں سے ٹی وی چینلز پر دکھائی جانے والی ہولناک تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے۔ بے بس دیہاتی صرف زندہ رہنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ خوش قسمت لوگوں کو ریسکیو کشتیاں ان کے چند قیمتی سامان کے ساتھ بچانے پہنچیں۔ جو عموماً ان کے کمزور مویشی تھے۔ لیکن بدقسمت لوگ بچائے نہ جا سکے۔ اب تک تقریباً 800 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔
اس جاری تباہی میں بڑے پیمانے پر صحت کے مسائل اور نچلی سطح پر تعلیمی امکانات کو شدید دھچکا لگنا یقینی ہے۔ یہ اثرات سیلاب اترنے کے بعد پاکستان کی موجودہ مشکلات کو مزید بڑھا کر ایک بہت بڑے چیلنج کی شکل اختیار کر لیں گے۔
اگرچہ آج پاکستان کو درپیش یہ تباہ کن صورتِ حال ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ مگر اس سانحے پر عالمی برادری کی مضبوط مدد حاصل کرنے کا معاملہ کئی سوالات میں گھرا ہوا ہے۔ ماضی میں بھی قدرتی آفات کے بعد عطیہ دہندگان نے کبھی مکمل اور سازگار ردِعمل نہیں دیا۔
اب یہ سستی ماضی کے مقابلے میں مزید بڑھنے کے امکانات رکھتی ہے۔ اس سال مسلسل ایسے اشارے مل رہے ہیں۔ کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ اور اس کے اداروں کی تشکیل سے شروع ہونے والی عالمی ترقی کے 80 سالہ سفر میں حاصل ہونے والے فوائد الٹ رہے ہیں۔ عالمی ترقی میں کمی کی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی ہے۔ جن کے مطابق امریکہ نے دنیا کے لیے جو کردار ادا کیا۔ اس نے اندرون ملک اپنی ضروریات کو نظرانداز کیا۔
اسی سال کے اوائل میں صدر ٹرمپ نے یو ایس ایڈ (USAID) یعنی امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کو بند کرنے کا حکم دیا۔ جو پہلے دنیا کے بحرانوں میں امریکہ کے کردار کی پہلی صف میں کھڑا تھا۔ ٹرمپ نے ان کئی اقوام متحدہ کے اداروں سے بھی امریکہ کو نکالنے کا حکم دیا۔ جو عالمی ترقیاتی کاموں میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔
جمعرات 28 اگست کو جب پاکستان میں سیلابی پانی کے خطرات مزید بڑھتے جا رہے تھے۔ صدر ٹرمپ نے ترقیاتی امداد، امن قائم رکھنے اور عالمی اداروں کے لیے منظور شدہ مزید 4.9 ارب امریکی ڈالر کی فنڈنگ منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فنڈز پہلے ہی امریکی کانگریس سے منظور ہو چکے تھے۔
صدر ٹرمپ کے اقدامات کیساتھ ساتھ، یورپی ممالک کی توجہ بھی زیادہ تر یوکرین کی تعمیرِنو پر مرکوز رہے گی۔ اگر روس کی اس ملک کے خلاف جنگ کا خاتمہ جنگ بندی پر ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس نہایت سنگین صورتِ حال میں بات بالکل واضح ہے۔ مستقبل میں ہنگامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے غیر ملکی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے پاکستان کو اپنے اندرونی اصلاحی اقدامات پر انحصار کرنا ہو گا۔ تاکہ اس کی آبادی بڑھتی ہوئی آفات کے باوجود اپنا مقابلہ کر سکے۔