ہم زندگی میں جسمانی چوٹ، زخم یا معمولی حادثات کے وقت فوری طبی امداد (فرسٹ ایڈ) کی اہمیت بخوبی جانتے ہیں، اور مختلف تعلیمی اداروں میں اس کی باقاعدہ تربیت بھی دی جاتی ہے۔ گھروں میں والدین بچوں کو بتاتے ہیں کہ خراش لگنے پر کیا کرنا چاہیے یا جلنے کی صورت میں کون سے اقدامات کرنے ہیں۔ لیکن جب بات ذہنی صحت کی ہو تو بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے تربیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔
انڈیا ٹوڈے میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جب پرواز کے دوران ایک مسافر کو مبینہ طور پر پینک اٹیک ہوا۔
بجائے اس کے کہ اس کی مدد کی جاتی، ایک ہمسفر نے اُسے تھپڑ مار دیا اور کہا کہ اس کا رویہ پریشان کن ہے۔
بعد ازاں متاثرہ شخص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس سے وہ عوامی تماشہ بن گیا اور اس کی ذہنی کیفیت مزید خراب ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق، وہ کچھ دن لاپتہ بھی رہا، بعد میں اُسے تلاش کر کے گھر پہنچایا گیا۔
ذہنی دباؤ اور پینک اٹیک میں فرق
اکثر لوگ ’ذہنی دباؤ‘، ’پریشانی‘، ’پینک‘ اور ’ڈپریشن‘ جیسے الفاظ کو ایک ہی مفہوم میں استعمال کرتے ہیں، حالانکہ ان کا مطلب اور شدت الگ الگ ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، ”پینک اٹیک“ ایک شدید اور اچانک کیفیت ہوتی ہے جس میں انسان کو ایسا محسوس ہو سکتا ہے جیسے اُسے دل کا دورہ پڑ رہا ہو۔
جبکہ پریشانی انزائٹی ایک دیرپا احساس ہے جو خوف، بے چینی یا تشویش کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔
پینک اٹیک کی علامات
پینک اٹیک ایک اچانک، شدید اور بے قابو خوف یا اضطراب کی کیفیت ہے جو کسی بھی وقت، بغیر کسی واضح وجہ کے آ سکتی ہے۔
اس دوران انسان کو دل کی دھڑکن تیز ہو جانا، سانس لینے میں دشواری، چکر آنا، پسینہ آنا، اور ذہنی الجھن یا پریشانی محسوس ہو سکتی ہے۔
یہ کیفیت اتنی شدید ہوتی ہے کہ جیسے آپ کا جسم اور دماغ ایک ساتھ گھبرا کر الجھ جاتے ہیں۔ خوف، غصہ، الجھن، اور ذہنی اضطراب ایک ساتھ محسوس ہوتے ہیں۔
یہ علامات اچانک شروع ہو کر چند منٹ سے لے کر ایک گھنٹے تک جاری رہ سکتی ہیں۔
جب کسی کو پینک اٹیک ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
ماہرینِ نفسیات کے مطابق، پینک اٹیک کی صورت میں فوری مدد فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہاں چند اہم اقدامات درج ہیں۔
خود پُرسکون رہیں اور نرمی سے بات کریں۔
اگر ممکن ہو تو متاثرہ فرد کو کسی پُرسکون جگہ پر لے جائیں۔
اُس سے نرمی سے پوچھیں کہ کیا اُسے مدد کی ضرورت ہے۔
سانس کی رفتار قابو میں لانے کے لیے اُس کی رہنمائی کریں: اس سے کہیں کہ ناک سے سانس اندر کھینچے، چند لمحے روک سانس کو روکے رکھے، پھر منہ سے آہستہ سانس خارج کریں۔
اُسے تسلی دیں کہ یہ کیفیت وقتی ہے اور وہ محفوظ ہے۔
یہ نہ کہیں کہ ”پریشان نہ ہو“ یا ”ریلیکس کرو“ کیونکہ یہ جملے متاثرہ فرد کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہو سکتے ہیں۔
جب تک وہ خود اجازت نہ دے اسے چھونے کی کوشش نہ کریں
بھیڑ نہ لگائیں، ویڈیو نہ بنائیں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا سخت نامناسب ہے۔
اُس کو جھنجھوڑنے یا ہلانے سے گریز کریں۔
ذہنی صحت کی پہلی امداد: وقت کی اہم ضرورت
جس طرح جسمانی چوٹ کے لیے ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی جاتی ہے، اسی طرح ذہنی مسائل میں فوری مدد فراہم کرنا سیکھنا بھی نہایت اہم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں، دفاتر اور عوامی مقامات پر کام کرنے والے افراد کو ذہنی صحت سے متعلق بنیادی معلومات اور پہلی امداد کی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اور مؤثر انداز میں مدد فراہم کی جا سکے۔
جیسا کہ انڈیا ٹوڈے کے مطابق ماہر نفسیات شیوَنی تریپاتھی کہتی ہیں، ”صحیح وقت پر کی گئی مدد نہ صرف متاثرہ فرد کو سکون دے سکتی ہے، بلکہ معاشرتی شعور کی سطح کو بھی بلند کر سکتی ہے۔
یہ صرف فرد کی نہیں، ایک پوری سوسائٹی کی ذمہ داری ہے۔“
ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا اور فوری مدد کی تربیت دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
معاشرتی سطح پر شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ذہنی دباؤ یا پینک اٹیک کسی کے ساتھ بھی، کسی بھی وقت ہو سکتا ہے اور اُس وقت ہمارا ردعمل انسانیت کی اصل پہچان ہوگا۔