یہ ایک بہت عام عارضہ ہے جس کا سامنا بیشتر افراد کو ہوتا ہے، کچھ کو کبھی کبھار اور دیگر ایسے ہوتے ہیں جن کو اکثر قبض کی شکایت رہتی ہے۔
قبض کی علامات کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ بیشتر افراد کو ان کا علم ہے۔ مگر وہ علامات پریشان کر دینے والی ہوتی ہیں تو ایک عام خشک پھل کو پانی میں ملا کر استعمال کرنے سے قبض سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایک فرد کو ہر رات کتنے گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے؟
جی ہاں واقعی کشمش کو پانی میں پی کر جزو بدن بنانے سے قبض سے نجات پانے یا اس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کشمش میں ایسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو نظام ہاضمہ کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ جب کشمش کو پانی میں بھگویا جاتا ہے تو ایسے مرکبات خارج ہوکر پانی کا حصہ بنتے ہیں جو آنتوں کے افعال بہتر بناتے ہیں۔ تو یہ پانی کیسے کام کرتا ہے؟ اس کے بارے میں آپ درج ذیل میں جان سکتے ہیں۔ لوگ خراٹے کیوں لیتے ہیں؟ اس کی عام وجوہات جانیں-
فائبر کا حصول
کشمش میں فائبر نامی غذائی جز موجود ہوتا ہے جو نظام ہاضمہ کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ اکثر قبض کے شکار افراد غذا میں فائبر کی مناسب مقدار کا استعمال نہیں کرتے جس سے قبض یا نظام ہاضمہ کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔ فائبر آنتوں کے افعال بہتر بنا کر قبض سے نجات دلاتا ہے جبکہ فائبر کی اقسام ہضم ہوتیں، جس کے نتیجے میں غذا سست روی سے ہضم ہوتی ہے اور قبض کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول سے محفوظ رکھنے والا بہترین پھل
سوربیٹول ایک قدرتی میٹھا قلمی الکحل مادہ ہے جو کہ آنتوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے۔ کشمش میں یہ غذائی جز موجود ہوتا ہے اور یہ جسم میں جاکر جلاب جیسا اثر کرتا ہے، یعنی پانی کو آنتوں کی جانب کھینچ کر فضلے کے اخراج کو آسان بناتا ہے۔ پانی میں بھیگی ہوئی کشمش نرم ہو جاتی ہے اور نظام ہاضمہ اسے آسانی سے ہضم کرلیتا ہے۔ ایڑی کی تکلیف سے نجات دلانے والا آسان ترین بہترین طریقہ
یہ پانی کیسے بنائیں؟
8 سے 10 کشمش ایک گلاس میں بھگو کر رات بھر کے لیے چھوڑ دیں۔ پھر صبح اٹھ کر پانی پی لیں جبکہ کشمش بھی کھا لیں، اس سے قبض سے نجات پانے میں مدد ملے گی۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر کشمش کے پانی یا اسے براہ راست کھانے سے قبض میں کوئی فائدہ نہ ہو یا علامات بدتر ہو جائیں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔