کیا آپ بھی نہاتے وقت گیزر کا سوئچ آن رکھتے ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں، لیکن یہ مکمل طور پر محفوظ عمل نہیں ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، بنگلور کے آستر سی ایم آئی ہسپتال میں سینئر کنسلٹنٹ انٹروینشنل کارڈیالوجی، ڈاکٹر سنجے بھٹ نے کہا، ”زیادہ تر جدید گیزر آٹومیٹک کٹ آف، تھرمو اسٹیٹ کنٹرول اور مناسب انسولیشن جیسے سیفٹی فیچرز کے ساتھ آتے ہیں، لیکن اگر وائرنگ پرانی ہو، ارتھنگ کمزور ہو، یا گیزر میں کوئی خرابی ہو، تو بجلی لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ پانی میں معمولی کرنٹ کے اخراج سے بھی خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں، خاص طور پر باتھ روم میں جہاں جسم گیلا ہوتا ہے اور بجلی کے اثرات زیادہ شدید ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر بھٹ نے پانی کے زیادہ گرم ہونے کو بھی خطرناک قرار دیا۔ ”اگر تھرمو اسٹیٹ کام کرنا بند کر دے تو پانی حد سے زیادہ گرم ہو سکتا ہے، جس سے جلنے کا خطرہ رہتا ہے۔“
صحت کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ گرم پانی سے نہانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اچانک بہت گرم پانی کے سامنے آنے سے چکر آنا، بلڈ پریشر کم ہونا یا بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
جو خاص طور پر بزرگ، بچے اور دل کے مریضوں میں عام ہیں۔
مزید یہ کہ گرم پانی کے نیچے زیادہ دیر رہنا جلد کو خشک کرنے کے ساتھ خارش اور جلن بھی پیدا کر سکتا ہے۔
محفوظ طریقہ: ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ گیزر کو پہلے آن کریں، پانی کو مطلوبہ حد تک گرم ہونے دیں، اور پھر گیزر بند کرکے نہائیں۔
اس سے نہ صرف الیکٹرک خرابیوں سے بچاؤ ممکن ہے بلکہ پانی کے زیادہ گرم ہونے کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔
گیزر کی باقاعدہ سروس کروانا، مناسب ارتھنگ کروانا اور وائرنگ کی جانچ کرنا بہت ضروری ہے۔ نہانے کے دوران گیلے ہاتھوں سے دھاتی نلکوں، بجلی کے سوئچز یا گیزر کو براہِ راست چھونے سے گریز کرنا چاہیے۔
یاد رکھیں کہ اگرچہ گیزر درست طریقے سے نصب اور برقرار رکھا جائے تو عموماً محفوظ ہوتے ہیں، لیکن نہاتے وقت گیزر کو آن رکھنا اب بھی خطرے سے خالی نہیں۔
سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ پانی کو پہلے گرم کر لیا جائے، گیزر بند کر دیا جائے اور پھر بغیر کسی پریشانی اور خطرے کے آرام سے نہایا جائے۔