اکثر کہا جاتا ہے کہ سرخ گوشت کا زیادہ استعمال کینسر کی مختلف اقسام کا شکار بنا سکتا ہے۔
مگر اب ایک نئی تحقیق میں اس خیال کی تردید کرتے ہوئے بتایا گیا کہ حیوانی پروٹین والی غذاؤں سے کینسر سے موت کا خطرہ نہیں بڑھتا بلکہ کینسر سے تحفظ مل سکتا ہے۔
یہ دعویٰ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
میکمساسٹر یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 19 سال یا اس سے زائد عمر کے 16 ہزار کے قریب افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔
تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ یہ افراد حیوانی اور نباتاتی ذرائع سے کتنی مقدار میں پروٹین کو جزو بدن بنتے ہیں اور اس سے امراض قلب، کینسر یا کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
محققین نے دریافت کیا کہ گوشت میں موجود پروٹین کے زیادہ استعمال سے موت کا خطرہ زیادہ نہیں بڑھتا۔
درحقیقت انہوں نے دریافت کیا کہ اس سے کینسر سے موت کے خطرے میں نمایاں حد تک کمی آتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پروٹین کے حوالے سے کافی الجھن پائی جاتی ہے جیسے کتنی مقدار میں اسے کھانا چاہیے، کونسی قسم کا استعمال کرنا چاہیے اور طویل المعیاد بنیادوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس تحقیق کے نتائج سے صورتحال واضح ہوگی اور لوگوں کے لیے فیصلہ کرنا آسان ہوگا کہ انہیں کیا کھانا چاہیے۔
نتائج کو مزید ٹھوس بنانے کے لیے محققین نے جدید ترین ماڈلز کا استعمال کیا تاکہ غذاؤں کے طویل المعیاد اثرات کا تعین کیا جاسکے۔
محققین کے مطابق ہمارے نتائج بہت ٹھوس ہیں۔
تحقیق میں پروٹین کے مجموعی استعمال (حیوانی یا نباتاتی) اور امراض قلب، کینسر یا کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے کے درمیان کوئی تعلق دریافت نہیں ہوا۔
البتہ محققین نے تسلیم کیا کہ یہ مشاہداتی تحقیق ہے اور اس حوالے سے مکمل تصدیق کلینیکل ٹرائلز سے ہی کی جاسکتی ہے۔
مگر ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ صحت مند غذائی عادات کے لیے گوشت کا استعمال کرنا چاہیے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل اپلائیڈ فزیولوجی، نیوٹریشن اینڈ میٹابولزم میں شائع ہوئے۔