کیا بالوں کو بار بار ڈائی کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟ ماہرین نے بتا دیا

کیا بالوں کو بار بار ڈائی کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟ ماہرین نے بتا دیا


بالوں کو رنگنا بلاشبہ آپ کی شخصیت کو نکھارنے اور فوری تبدیلی لانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ چاہے آپ گہرے براؤن کا انتخاب کریں، سنہری ہائی لائٹس کروائیں یا پھر کوئی منفرد پاستل شیڈ اپنائیں، نیا ہیئر کلر آپ کے انداز میں تازگی اور اسٹائل کا نیا تاثر پیدا کر دیتا ہے۔

لیکن اس خوبصورتی کے پیچھے کچھ ہوشربا نقصانات بھی چھپے ہوتے ہیں، جیسے خشکی، بالوں کا ٹوٹنا اور کھوپڑی میں حساسیت پیدا ہونا۔

ماہرین اور مشہوراس بات پر زور دیتی ہیں کہ رنگے ہوئے بالوں کی حفاظت کے لیے خصوصی توجہ ضروری ہے۔

وہ تجویز کرتی ہیں کہ بالوں کو کنڈیشن کرنا، سلفیٹ سے پاک شیمپو استعمال کرنا اور وقتاً فوقتاً ٹرِم کروانا نہایت ضروری ہے تاکہ بالوں کی چمک، نرمی اور صحت برقرار رہے۔

اگرچہ نیا رنگ آپ کو خوبصورت بنا سکتا ہے، لیکن بالوں کو بار بار رنگنے سے بچنا اور درست دیکھ بھال کو معمول بنانا ہی بالوں کی اصل خوبصورتی کا راز ہے۔ بالوں کو رنگنے کے عام نقصانات

خشک اور بے جان بال

پرمننٹ ڈائی میں موجود امونیا بالوں کی قدرتی چکناہٹ چھین لیتا ہے، جس سے بال خشک، بے رونق اور آسانی سے الجھنے لگتے ہیں۔ نازک ساخت اور ٹوٹ پھوٹ

بار بار رنگنے سے بالوں کی ساخت کمزور ہو جاتی ہے، جس سے نمی جلدی ختم ہو جاتی ہے اور بال ٹوٹنے لگتے ہیں۔

جلد کی حساسیت

رنگ میں موجود کیمیکل جلد میں جلن، خارش یا ہلکی جلن پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر سر کی جلد حساس ہو۔

رنگ کا جلدی ختم ہونا

اگر بال زیادہ پروسیس ہو چکے ہوں تو وہ رنگ کو دیر تک برقرار نہیں رکھ پاتے، جس کی وجہ سے رنگ جلدی اترجاتا ہے یا غیر ہموار نظر آتا ہے۔ ٹوٹنا جو بالوں کے جھڑنے جیسا لگتا ہے

اگرچہ رنگ بالوں کی جڑوں سے نہیں کھینچتا، لیکن درمیان سے ٹوٹنے والے بال جھڑنے جیسے نظر آ سکتے ہیں، جو ظاہری طور پر بال کم دکھاتے ہیں۔

سیلیبریٹریز اپنے رنگے ہوئے بالوں کا خیال کیسے رکھتی ہیں؟ کرینہ کپور خان سلفیٹ سے پاک شیمپو اور کنڈیشنر استعمال کرتی ہیں، جو بالوں کے رنگ کو محفوظ رکھتے ہیں۔

وہ ہیٹ اسٹائلنگ کم سے کم کرتی ہیں، ہفتہ وار ڈیپ کنڈیشننگ اور ہر 6–8 ہفتے بعد ٹرمنگ کو معمول بناتی ہیں۔

دھوپ میں بالوں کی حفاظت کے لیے اسکارف یا یو وی پروٹیکشن پراڈکٹس کا استعمال بھی کرتی ہیں۔

پریانکا چوپڑا جوناس قدرتی نگہداشت پر یقین رکھتی ہیں، وہ ہر دو ہفتے میں ناریل کے تیل سے مالش کرتی ہیں اور ہلکے شیمپو سے بال دھوتی ہیں۔

وہ اپنی ہیئر کیئر برانڈ کے ذریعے سادہ اور مؤثر نگہداشت کو فروغ دیتی ہیں۔ زینڈایا اپنے بالوں کی حفاظت کے لیے کلر ڈپازٹنگ کنڈیشنر کا استعمال کرتی ہیں۔

جس سے رنگ تازہ نظر آتا ہے اور بار بار رنگنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

کتنی بار بال رنگنا چاہیے؟ پرمننٹ کلر: ہر 6–8 ہفتے میں، سیمی پرمننٹ کلر: ہر 4–6 ہفتے میں ، بلیچ یا لائٹننگ: ہر 8–12 ہفتے بعد اور گلاس یا ٹونر: ہر 3–4 ہفتے میں بہتر رہتا ہے۔

اگر بال خشک، بے جان یا غیر ہموار رنگ دکھانے لگیں تو کلرنگ کا وقفہ بڑھا دینا بہتر ہے۔

بالوں کی حفاظت کے لیے کار آمد ٹپس پروفیشنل سے کلرنگ کروائیں: ماہر ہیئر اسٹائلسٹ مناسب وقت اور حفاظتی پراڈکٹس استعمال کرتا ہے۔

ہفتہ وار ڈیپ کنڈیشننگ کریں: تیل اور پروٹین سے بھرپور ماسک استعمال کریں۔ سلفیٹ فری شیمپو اپنائیں: یہ رنگ اور بالوں کی ساخت دونوں محفوظ رہتے ہیں۔

گرم آلے فوری استعمال نہ کریں: رنگ کے فوراً بعد حرارت سے پرہیز کریں یا ہیٹ پروٹیکٹنٹ لگائیں۔ باقاعدہ ٹرمنگ: ہر 6–8 ہفتے میں بال کٹوانا دو منہ والے سروں سے بچاتا ہے۔

کب سمجھیں کہ آپ حد سے زیادہ کلرنگ کر رہے ہیں؟ بال مسلسل خشک محسوس ہوں، چاہے آپ ڈیپ کنڈیشن کریں ٹوٹنے یا دو مُنہ سروں میں اضافہ ہو رنگ غیر ہموار یا جلدی ختم ہو رہا ہو۔

بالوں میں مستقل فرِز ہو، جو کنٹرول نہ ہو اگر یہ علامات ظاہر ہوں، تو کلرنگ سے کچھ وقفہ لیں اور بالوں کو خاص توجہ دیں۔

بالوں کو رنگنا بلاشبہ فیشن کا حصہ ہے، مگر اصل خوبصورتی اس وقت سامنے آتی ہے جب رنگ کے ساتھ بالوں کی صحت بھی برقرار رہے۔

تو چاہے آپ فیشن کو اپنائیں یا ٹرینڈز کا حصہ بنیں، اپنے بالوں کو وہ محبت اور نگہداشت ضرو دیں جس کے وہ حق دار ہیں۔




Courtesy By Such News

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top