صحت مند زندگی کیلئے روزانہ کتنے بادام کھانا ضروری ہے؟ جانیے

صحت مند زندگی کیلئے روزانہ کتنے بادام کھانا ضروری ہے؟ جانیے


بادام ایک مقبول گری ہے جسے دنیا بھر میں کھایا جاتا ہے اور یہ صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق روزانہ بادام کھانے سے جسم میں تکسیدی تناؤ کم ہوتا ہے اور تکسیدی صحت بہتر ہوتی ہے، جس سے مختلف دائمی امراض سے تحفظ ملتا ہے۔

تکسیدی صحت سے مراد جسم میں فری ریڈیکلز اور اینٹی آکسیڈنٹس کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے۔

اگر یہ توازن بگڑ جائے تو جسمانی خلیات کو نقصان پہنچتا ہے، جسے تکسیدی تناؤ کہا جاتا ہے۔ یہ تناؤ تمباکو نوشی، زیادہ بیٹھنے، ناقص غذا، الکحل کے استعمال اور فضائی آلودگی کی وجہ سے بڑھ سکتا ہے۔

تکسیدی تناؤ متعدد دائمی امراض جیسے ہائی بلڈ پریشر، گردوں کے مسائل، ذیابیطس ٹائپ 2، جوڑوں کے امراض، الزائمر اور کینسر سے منسلک ہے۔

جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع تحقیق کے مطابق روزانہ تقریباً 2 اونس (60 گرام) بادام کھانے سے تکسیدی صحت بہتر ہوتی ہے اور خلیات کو نقصان پہنچانے والے عناصر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

یہ تحقیق 424 افراد پر کی گئی، جن میں صحت مند افراد کے ساتھ موٹاپے کے شکار، تمباکو نوشی کرنے والے اور دائمی بیماریوں کے مریض شامل تھے۔

ان افراد کو 4 سے 24 ہفتوں تک 5 سے 168 گرام بادام روزانہ دیے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 2 اونس بادام روزانہ کھانے سے جسم میں فری ریڈیکلز کا اثر کم ہوتا ہے اور صحت بہتر رہتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ باداموں کے استعمال سے جسم میں یورک ایسڈ کی سطح میں بھی کمی آتی ہے، اس ایسڈ کی اضافی مقدار کو بھی تکسیدی تناؤ سے منسلک کیا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق 2 اونس یا 22 باداموں کو روز کھانا صحت کے لیے بہترین ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس گری کو مختلف غذاؤں میں شامل کرکے بھی کھایا جاسکتا ہے تاکہ تکسیدی تناؤ سے تحفظ مل سکے۔

اس سے قبل جون 2025 میں امریکا کی اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ روزانہ چند بادام کھانے سے میٹابولک سینڈروم کے شکار افراد کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ میٹابولک سینڈروم موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ہائی بلڈ شوگر اور خون میں چکنائی بڑھنے جیسے امراض کے مجموعے کو کہا جاتا ہے، جس سے امراض قلب، ذیابیطس اور موت کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 2 اونس بادام کھانے سے کارڈیو میٹابولک اور معدے کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس ٹائپ اور کولیسٹرول جیسے مسائل بہت تیزی سے عام ہو رہے ہیں جبکہ ان سے دماغی صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ میٹابولک سینڈروم کے شکار افراد میں ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ناقص غذائی عادات اور زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے میٹابولک سینڈروم کا مسئلہ عام ہوتا جا رہا ہے جبکہ معدے کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔




Courtesy By Such News

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top