پانی ہماری صحت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر گرم موسم میں اس کی کمی جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ کم پانی پینے کی عادت دل کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اور مختلف دائمی بیماریوں کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔
برطانیہ کی لیورپول جان مورس یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، جو لوگ روزانہ مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے، ان کے جسم میں تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز کی سطح بڑھ جاتی ہے۔
اس سے امراض قلب، ذیابیطس اور ذہنی دباؤ (ڈپریشن) کا امکان بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد روزانہ ڈیڑھ لیٹر سے کم پانی پیتے ہیں، ان میں تناؤ بڑھانے والے ہارمون کورٹیسول کی سطح دیگر افراد کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ پائی گئی۔
یہ ہارمون جب زیادہ سرگرم ہوتا ہے تو مختلف بیماریوں کے امکانات میں اضافہ کردیتا ہے۔
اس مقصد کے لیے محققین نے صحت مند نوجوانوں کے 2 گروپس کا موازنہ کیا۔
ایک گروپ میں وہ لوگ شامل تھے جو روزانہ ڈیڑھ لیٹر سے کم پانی یا دیگر مشروبات پیتے تھے، جب کہ دوسرے گروپ میں زیادہ مقدار میں پانی پینے والے نوجوان شامل تھے۔
محققین نے دونوں گروپس میں تناؤ کے ردعمل، نیند اور دیگر اثرات کا جائزہ لیا اور نتائج سے واضح ہوا کہ کم پانی پینے والے افراد زیادہ خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
ان افراد کے خون اور پیشاب کے نمونوں میں پانی کی سطح کا جائزہ لیا گیا۔
بعد ازاں انہیں حقیقی دنیا میں تناؤ بڑھانے والے ٹیسٹوں جیسے ملازمت کے فرضی انٹرویو اور دماغی ٹاسک کرنے کے لیے دیے گئے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ کم پانی پینے والے افراد کے جسم کے اندر کورٹیسول کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا۔
محققین نے بتایا کہ اگرچہ کم پانی پینے والے افراد نے پیاس کو رپورٹ نہیں کیا مگر ان کی پیشاب کی رنگت زیادہ گہری ہوگئی جو کہ جسم میں ڈی ہائیڈریشن کی واضح علامت ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جسم میں کورٹیسول کی سطح میں اضافے سے طویل المعیاد بنیادوں پر صحت متاثر ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جسم میں پانی کی مناسب مقدار تناؤ کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل آف اپلائیڈ فزیولوجی میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل مئی 2024 میں امریکا کی پنسلوانیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جسم میں پانی کی معمولی کمی سے بھی وقت گزرنے کے ساتھ آپ کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزمرہ کی سرگرمیوں کے دوران اگر جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو چند منٹ کے لیے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ماضی میں ہونے والے تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ڈی ہائیڈریشن سے خلیات کی صحت اور گردوں کے افعال متاثر ہوتے ہیں جبکہ دائمی امراض اور جلد موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔