روزمرہ زندگی میں دہی اور چھاچھ دونوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے، لیکن اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دہی میں پانی ملانا ہی چھاچھ بنانے کا طریقہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل روایتی چھاچھ وہی ہوتی ہے جو دہی سے مکھن نکالنے کے بعد بچنے والا لیکویڈ ہوتا ہے۔
غذائیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس روایتی چھاچھ کو عموماً زیرہ، کڑی پتہ، ہینگ اور دیگر مصالحوں کے ساتھ ملا کر مزید لذیذ بنایا جاتا ہے اور نسل در نسل اسے ہاضمے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
ایسی چھاچھ ہلکی، جھاگدار اور ذرا کھٹی ہوتی ہے کیونکہ اس میں مکھن نکل چکا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، پانی ملا کر بنائی گئی دہی میں دودھ میں موجود ملائی کی صورت میں چکنائی موجود رہتی ہے اس لیے اسے روایتی چھاچھ نہیں کہا جا سکتا۔
فوائد
یہ آسانی سے تیار ہوجاتی ہے بس دہی میں تھوڑا سا پانی ملا کر فوراً پیا جاسکتا ہے۔
دودھ کی ملائی کو الگ نہ کرنے کے باوجود اس کے اندر ٹھنڈک اور ہائیڈریشن کی خصوصیات باقی رہتی ہیں اور گرمیوں میں یہ بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
زیرہ، ادرک، نمک اور پودینہ ڈال کرذائقہ دار مشروب بنایا جا سکتا ہے۔
نقصانات
دہی سے چکنائی نہ نکلنے کی وجہ سے چربی برقرار رہتی ہے، اس لیے ہلکا اور جلد ہضم ہونے والا نہیں ہوتا۔
بھاری کھانے کے بعد روایتی چھاچھ کی طرح ہاضمے میں مدد نہیں کرتا۔
پکانے میں دودھ کی طرح دہی کا کام دیتا ہے، چھاچھ کی طرح نہیں۔
ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ اگرچہ دہی میں پانی ملا کر پینا غلط نہیں، لیکن اگر آپ اپنی دادی اماں کے ہاتھ سے بنی ہوئی ہلکی، مکھن نکال کر بنی ہوئی چھاچھ کا مزہ اور فائدہ چاہتے ہیں تو یہ اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا ہے۔
اس کے لیے آپ کو روائتی چھاچھ بنانے کے طریقے پر عمل کرنا ہوگا۔