زیادہ گرمی بڑھاپے کی وجہ بن سکتی ہے، ماہرین

زیادہ گرمی بڑھاپے کی وجہ بن سکتی ہے، ماہرین


دنیا کے مختلف حصے آج کل شدید موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے قدرتی آفات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ کہیں سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی ہے، تو کہیں ہر سال آنے والی شدید گرمی کی لہریں لوگوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہی ہیں۔

یہ گرمی کی لہریں نہ صرف ہمیں تھکاتی اور بیمار کرتی ہیں بلکہ ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان کا اثر وقتی نہیں بلکہ دیرپا بھی ہوتا ہے، اور یہ ہمارے جسم کی عمر بڑھنے کی رفتار کو بھی تیز کر سکتی ہیں۔

تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بار بار گرمی کی لہروں کے سامنا ہونے سے جسمانی بڑھاپے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور صحت کے مسائل کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

جتنا کوئی فرد شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرتا ہے، اس کا جسم اتنی ہی تیزی سے بوڑھا ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں محققین نے تقریباً 25,000 افراد کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جو 15 سالوں کے دوران جمع کیا گیا تھا۔

محققین نے اس دوران کل 30 گرمی کی لہروں کو ریکارڈ کیا، جنہیں “چند روز تک درجہ حرارت میں اضافہ” کے طور پر شناخت کیا گیا۔

سائنسدانوں نے دیکھا کہ گرمی کی لہروں میں رہنے والے افراد کی حیاتیاتی عمر تیزی سے بڑھتی ہے۔ ہر فرد کی حیاتیاتی عمر جگر، پھیپھڑے، گردے کی کارکردگی، بلڈ پریشر اور سوزش کے ٹیسٹ کے ذریعے ماپی گئی۔

شرکاء کے پچھلے دو سالوں کے درجہ حرارت کے تجربات کو دیکھ کر محققین نے معلوم کیا کہ شدید گرمی کی لہروں میں زیادہ رہنے والے افراد کا جسم اتنی ہی تیزی سے بوڑھا ہوتا ہے جتنا کہ تمباکو نوشی یا شراب پینے سے۔ خاص طور پر بڑی عمر کے لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا کہ ہر اضافی 1.3 ڈگری سیلسیس کے مجموعی درجہ حرارت سے جسمانی عمر میں تقریباً آٹھ سے بارہ دن کا اضافہ ہوتا ہے۔

خاص طور پر وہ لوگ جو جسمانی محنت کرتے ہیں یا دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، ان پر یہ اثرات سب سے زیادہ مرتب ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے ماحولیاتی ماہر نے بتایا، ”اگرچہ یہ اعداد و شمار بظاہر چھوٹے لگ سکتے ہیں، لیکن طویل مدت اور بڑی آبادیوں پر ان کے صحت عامہ پر گہرے اثرات ہو سکتے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ گرمی کی لہروں سے جسم پر جو اثر پڑتا ہے، وہ اتنا معمولی نہیں جتنا ہم سوچتے ہیں۔

ایک اور ماہر نے کہا کہ یہ تحقیق ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہمیں فوری طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہوگا ورنہ ہماری صحت مزید خراب ہو سکتی ہے۔

عالمی حقائق:

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہریں زیادہ عام ہو رہی ہیں۔

2024 دنیا کا سب سے گرم سال تھا، جس نے 2023 کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کئی بڑے شہروں میں 1970 کے بعد سے شدید گرم دنوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ماحولیاتی ماڈلز یہ بتاتے ہیں کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہے گا اور عالمی موسمیاتی تنظیم کا اندازہ ہے کہ 2025 سے 2029 کے دوران پانچ سالہ اوسط درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سیلسیس سے زائد اضافہ ہونے کا 70 فیصد امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا جائے گا، شدید گرمی سے نمٹنے کے حل تلاش کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہو جائے گا۔




Courtesy By Such News

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top