دنیا بھر میں کام کرنے والی خواتین کو اپنے کیرئیر کے مختلف مراحل پر طرح طرح کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں عورت کی پیشہ ورانہ جدوجہد ابھی بھی مکمل طور پر قبولیت حاصل نہیں کر سکی۔ وہاں ہراسانی ایک ایسا پہلو ہے جو کسی نہ کسی انداز میں ہر ورکنگ ویمن کی زندگی کا کبھی نہ کبھی حصہ ضرور بنتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہم ’’ہراسانی‘‘ کا لفظ سنتے ہیں تو زیادہ تر ذہنوں میں جسمانی یا جنسی ہراسانی کا تصور ابھرتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور باریک ہے۔ ہراسانی کی سب سے عام اور سب سے خطرناک شکل زبانی ہراسانی ہے۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو نظر نہیں آتا مگر انسان کی خوداعتمادی، حوصلے اور ذہنی سکون کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہتا ہے۔
زبانی ہراسانی وہ جملے ہیں جو کسی کی قابلیت، کردار، شخصیت یا حتی کہ لباس پر کسے جاتے ہیں۔ یہ طنزیہ تبصرے، ناپسندیدہ مزاح یا بار بار کے طعنے کسی کو اس حد تک متاثر کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے ماحول میں غیر محفوظ اور کمزور محسوس کرنے لگے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ رویہ بظاہر اتنا ہلکا لگتا ہے کہ لوگ اسے قابل گرفت نہیں سمجھتے۔
اگر کوئی عورت شکایت کرے تو اکثر اسے یہی سننے کو ملتا ہے کہ ’’یہ تو صرف مذاق تھا‘‘ یا ’’تمہیں ہر بات دل پر لگتی ہے۔‘‘ ایسے جملے اصل مسئلے کو مزید چھپا دیتے ہیں۔ اور متاثرہ عورت کو اس کشمکش میں ڈال دیتے ہیں کہ آیا وہ واقعی زیادہ سوچ رہی ہے۔ یا اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ یہی ابہام زبانی ہراسانی کو سب سے زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے۔
ہم ٹی وی کا ڈرامہ گونج اسی حساس اور اہم مسئلے کو سامنے لاتا ہے۔ یہ ڈرامہ دکھاتا ہے کہ ہراسانی ہمیشہ جسمانی یا کھلے عام نہیں ہوتی بلکہ یہ اکثر معمولی رویوں، لفظوں اور اشاروں میں چھپی ہوتی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار زرنب جسے کومل میر نے ادا کیا ہے۔ ایک بااعتماد اور باصلاحیت نوجوان ہے جو ایک ایجنسی میں کام کرتی ہے۔ زرنب کے والد (خالد انعم) ایک محبت کرنے والے باپ ہیں جو اپنی تین بیٹیوں کی پرورش نہایت اعتماد کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور ان کے لیے ایک سہارا اور رول ماڈل ہیں۔
زرنب کی زندگی ایک مثالی ورکنگ گرل کی ہے جس نے محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر اپنا مقام بنایا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے کولیگ نبیل کے رویے کا سامنا کرتی ہے تو کہانی ایک نئے اور تکلیف دہ موڑ پر پہنچتی ہے۔
نبیل، جس کا کردار گوہر رشید نے ادا کیا ہے کھلے عام ہراسانی نہیں کرتا۔ وہ زرنب کو براہ راست چھوتا نہیں اور نہ ہی کھلے عام کچھ ایسا کہتا ہے۔ جو شکایت کی صورت میں فوراً پکڑا جا سکے۔ اس کا رویہ باریک مگر زہریلا ہے۔ وہ زرنب کے لباس پر تبصرے کرتا ہے، طنزیہ جملے کس دیتا ہے۔ اس کے کام پر غیر ضروری تنقید کرتا ہے اور بات اس انداز سے کرتا ہے کہ زرنب غیر پیشہ ور یا جذباتی لگے۔
یہ سب کچھ بظاہر معمولی سا لگتا ہے لیکن حقیقت میں ایسے رویئے دھیرے دھیرے کسی بھی شخص کو ذہنی طور پر تھکا دیتے ہیں۔ زرنب بھی اسی کشمکش کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک طرف وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہے۔ اور دوسری طرف یہ باریک طنز اور جملے اس کی کارکردگی کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ’’گونج ‘‘کو منفرد بناتا ہے۔ کیونکہ یہ ہراسانی کی اس شکل کو سامنے لاتا ہے۔ جو ہمارے دفاتر میں عام ہے مگر اکثر اس پر بات ہی نہیں ہوتی۔
اس ڈرامے کی ایک اور طاقت یہ ہے کہ یہ صرف زرنب کی کہانی نہیں سناتا۔ بلکہ مختلف کرداروں کے ذریعے عورتوں کو درپیش دیگر حقیقتوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ زرنب کی بہن نازش جو ایک وکیل ہے اس وقت ایک اور چیلنج کا سامنا کرتی ہے۔ جب اس کے باس جس کا کردار علی سفینہ نے ادا کیا ہے۔ اس سے شادی کا خواہش مند ہوتا ہے لیکن اس کی شادی شدہ حیثیت اور ماضی ایک کشمکش پیدا کرتے ہیں۔
یہاں بھی ڈرامہ ایک دلچسپ حقیقت دکھاتا ہے کہ والد اپنی بیٹی کے فیصلے کو رد نہیں کرتے۔ بلکہ اس کی رائے اور خواہش کا احترام کرتے ہیں۔ یہ پہلو ڈرامے کو مزید دلچسپ پسند بناتا ہے۔ زرنب کی سب سے چھوٹی بہن کی کہانی بھی علامتی ہے۔ جو کھیلوں میں حصہ لینا چاہتی ہے مگر اسکول کے لڑکے اسے کھیل کے میدان میں قبول نہیں کرتے۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ لڑکیوں کو صرف دفتروں میں نہیں۔ بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رکاوٹوں اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اداکاری کے لحاظ سے بھی گونج ایک مکمل پراجیکٹ ہے۔ کومل میر نے زرنب کے کردار میں اعتماد اور ضبط دونوں کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ گوہر رشید نے نبیل کے کردار کو اتنی باریکی سے ادا کیا ہے۔ کہ ناظرین اس کی زبانی ہراسانی کو شدت سے محسوس کر سکتے ہیں۔ فیروز قادری نے احمد کے کردار میں متوازن سپورٹ فراہم کی۔ جبکہ خالد انعم کا کردار ایک ایسا مثبت اور پیار بھرا والد دکھاتا ہے جو دل کو چھو لیتا ہے۔
پروڈکشن، ڈائیلاگز اور ملبوسات سب اس ڈرامے کو حقیقت کے قریب لے آتے ہیں۔ خاص طور پر زرنب کے لباس خواتین ناظرین کے لیے رول ماڈل بن جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک خودمختار ورکنگ گرل کے گولز کے طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
گونج کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ شور شرابے یا لیکچر کے ذریعے پیغام نہیں دیتا۔ بلکہ چھوٹے چھوٹے حقیقی مناظر کے ذریعے عورتوں کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ دفتری ماحول میں زبانی ہراسانی کس طرح چھپی ہوئی شکلوں میں موجود رہتی ہے۔ اور یہ کس طرح کسی کی کارکردگی، خوداعتمادی اور ذہنی سکون کو متاثر کرتی ہے۔
یہ ڈرامہ یاد دلاتا ہے کہ کام کرنے کی جگہ پر اصل چیلنج صرف تنخواہ یا ترقی نہیں۔ بلکہ وہ زہریلا ماحول ہے جو لفظوں اور رویوں کے ذریعے پیدا کیا جاتا ہے۔ یہی چھوٹے مگر طاقتور لمحات گونج کو نئے ڈرامہ سیزن کی سب سے اہم اور یادگار کہانیوں میں شامل کر دیتے ہیں۔
یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ گونج ہمیں صرف ایک کہانی نہیں سناتا بلکہ ایک اجتماعی گفتگو کی طرف مائل کرتا ہے۔ یہ ڈرامہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم تسلیم کریں کہ زبانی ہراسانی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جو خواتین کی زندگیوں کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین اس موضوع پر کھل کر بات کریں اور اپنی خاموشی کو توڑیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں ایک باقاعدہ مہم شروع کرنی چاہیے۔ تاکہ کام کرنے کی جگہ پر زبانی ہراسانی کو اسی شدت سے سامنے لایا جا سکے۔ جس کی یہ مستحق ہے۔ لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تجربات شیئر کریں اپنی کہانیاں سنائیں اور یہ باور کرائیں کہ یہ مسئلہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔ اگر ایک عورت آواز بلند کرے تو شاید اسے نظر انداز کیا جائے۔ لیکن اگر سب مل کر بات کریں تو یہ ایک تحریک بن جائے گی جو ماحول بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔
گونج دیکھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ ہمیں سچ کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ہراسانی کی سب سے عام شکل زبانی ہراسانی ہے جو نظر تو نہیں آتی۔ مگر روح تک کو زخمی کر دیتی ہے۔ یہ ڈرامہ عورتوں کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے کہ وہ اپنی پہچان جھگڑوں سے نہیں بلکہ اپنی محنت اور صلاحیت سے منوائیں۔ اور مردوں کے لیے یہ ایک آئینہ ہے کہ وہ سوچیں کہ ان کے رویے اور الفاظ دوسروں پر کس طرح اثر ڈالتے ہیں۔ دفاتر میں ہراسانی پر بات کرنے کی ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے۔ مگر اس پر گفتگو نہ ہونے کے برابر ہوئی ہے۔
گونج نے اس خاموش موضوع کو نہایت حقیقت اور ہمت کے ساتھ سامنے لا کر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ڈرامہ نہ صرف دیکھنے کے قابل ہے۔ بلکہ اس پر بات کرنا بھی ہمارے معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔
یہ ڈرامہ اس بات کا آغاز ہے کہ زبانی ہراسانی کو معمولی یا غیر اہم نہ سمجھا جائے۔ بلکہ اسے اسی سنجیدگی سے لیا جائے جس کی یہ حقدار ہے۔ اب وقت ہے کہ لڑکیاں اس خاموش مگر تکلیف دہ مسئلے پر بات کریں۔ اور اپنی آواز کو ایک اجتماعی مہم میں بدل دیں۔ یہ مہم نہ صرف کام کرنے کی جگہ بلکہ معاشرتی رویوں میں بھی تبدیلی لا سکتی ہے۔
’’گونج‘‘ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم اس مسئلے پر خاموش رہے تو یہ زہر پھیلتا رہے گا۔ لیکن اگر ہم بات کریں تو شاید آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند ماحول بنایا جا سکے۔ یہی پیغام گونج کو محض ایک ڈرامہ نہیں بلکہ ایک تحریک بنا دیتا ہے۔