پاکستانی سینما میں ایک نئی اور اہم پیشرفت کے طور پر فلم “ہم سب” 14 اگست 2025 کو نمائش کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔
ہم فلمز کے بینر تلے ریلیز کی جانے والی یہ فلم اے زیڈ فلم گروپس کی پروڈکشن ہے جو پاکستان میں بسنے والے مختلف لسانی، نسلی اور ثقافتی طبقات کے درمیان موجود خلیج کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ فلم ایک اہم پیغام پر مشتمل ہے جو نہایت سادہ لیکن طاقتور ہے کہ انسان کی پہچان اس کی زبان‘ نسل یا قومیت نہیں بلکہ اس کی انسانیت ہے۔
ہم سب ایک ایسی حقیقت پسند اور بصیرت افروز فلم ہے جو تعصبات‘ شناخت اور سماجی رویّوں پر مبنی گہری کہانی بیان کرتی ہے۔ فلم اس انسانی رویے کو اجاگر کرتی ہے جس کے تحت معاشرہ افراد کو “ہم” اور “وہ” میں بانٹ دیتا ہے اور یہی تقسیم آگے چل کر تعصبات، ناانصافی اور منافرت کو جنم دیتی ہے۔ ماضی میں جہاں نسلی تعصب عام تھا آج بھی وہی رویہ ثقافتی برتری کے پردے میں اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے جو معاشرے کیلئے کسی زہر قاتل سے کم نہیں۔
ثقافت، روایت اور حب الوطنی کا حسین امتزاج ”سربالا جی“
فلم کی کہانی کا آغاز ایک معمولی واقعے سے ہوتا ہے جب ایک سکیورٹی ادارے کی روہی نامی کارکن، ایک خاتون سے گاڑی کے معمولی تصادم پر جھگڑ پڑتی ہے۔ لسانی بنیاد پر پیدا ہونے والا یہ تنازع فرد واحد کا غصہ نہیں بلکہ ایک معاشرتی رویے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسی دوران ایک اردو بولنے والے لڑکے کی لاش ملنے سے کہانی ایک سنجیدہ موڑ اختیار کر لیتی ہے ۔
فلم کے مرکزی کرداروں میں شامل ہیں بوبی اور رومی ایسے دو نوجوان جو ایک معروف سیاسی شخصیت شاہ زیب فارمان شان اور ان کی بیوی ستارہ مغل کی گاڑی اسلحے کے زور پر چھین لیتے ہیں۔ متوقع انتخابات میں حصہ لینے والے شاہ زیب اس واقعے کو اپنی سیاسی ساکھ کیلئے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ دوسری جانب انسپکٹر داؤد چوہدری جو خود ایک ذاتی سانحے کے باعث شدید تعصب کا شکار ہے ایک پشتون جوڑے فلک شیر اور صوفیہ کو بلاجواز ہراساں کرتا ہے۔ داؤد کا ماتحت نادر سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سچ بولنا اس کے کیریئر کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
معاشرے میں صرف عورت ہی کیوں قربانی دے؟ فضیلہ قاضی
فلم اس وقت ایک اہم موڑ لے لیتی ہے جب نادر بوبی کو لفٹ دیتا ہے، بوبی جب جیب سے “اللہ” کا لاکٹ نکالنا چاہتا ہے تو نادر اس غلط فہمی میں کہ وہ ہتھیار نکال رہا ہے اسے گولی مار دیتا ہے بعد ازاں یہ حقیقت بھی سامنے آ تی ہے کہ بوبی جمشید کا بھائی تھا جو خود اس کی تلاش میں تھا۔ بوبی ہر کسی کو یہ پیغام دیتا تھا کہ “ہم سب اللہ کے بندے ہیں” لیکن بدقسمتی سے اس کا یہ پیغام اس کے اپنے ہی خون میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ منظر نہ صرف فلم کا مرکزی موڑ ہے بلکہ ایک گہرا سماجی اور روحانی سوال بھی اٹھاتا ہے۔
کہانی اس وقت مزید سنسنی خیز ہوجاتی ہے جب رومی ایک وین چرا لیتا ہے جس میں کچھ لڑکیاں قید ہوتی ہیں۔ یہ وین دراصل انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے جڑی ہوتی ہے جس کے پیچھے وہی خاتون اور اس کا شوہر ہوتے ہیں جن سے فلم کی ابتدا ہوئی تھی۔ آگے چل کر انکشاف ہوتا ہے کہ یہ مہم ایک سیاسی چال نہیں بلکہ اسمگلنگ نیٹ ورک کو چھپانے کی کوشش تھی۔
ادھر ستارہ مغل ایک ذاتی سانحے کے بعد جب مدد کیلئے پکارتی ہے تو آس پاس کوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کو تیار نہیں ہوتا سوائے اس کی اردو بولنے والی ملازمہ کے، جو نہ صرف اس کی جان بچاتی ہے بلکہ اسے یہ سبق بھی دیتی ہے کہ انسان کی قدر اس کے خاندانی پس منظر یا زبان سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے۔
فلم کا اختتام ایک قومی کرکٹ میچ کے منظر سے ہوتا ہے جہاں سب ایک جھنڈے تلے متحد ہو کر پاکستان کی جیت کا جشن منا تے ہیں۔ وہاں نہ کوئی زبان دیکھی جاتی ہے نہ نسل صرف ایک شناخت ہوتی ہے “ہم سب پاکستانی ہیں۔”
گونج ، جہاں ہمت بولتی ہے وہاں خاموشی ہار جاتی ہے
ہم سب محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک سماجی پیغام ہے جو ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے تعصبات پر نظر ثانی کریں اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کریں جو اتحاد‘ ہمدردی اور انسانیت کے اصولوں پر قائم ہو۔
فلم میں سعود، ساجد حسن، علی خان، جویریہ سعود، جاوید شیخ، ازیکا ڈینیل، عدنان شاہ ٹیپو، علی جوش، جنید نیازی، فاضل حسین، نعمان حبیب اور زوہیب خان نے اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ ہم سب کی کہانی ذیشان احمد نے قلمبند کی ہے، پروڈیوسر تحسین جبکہ ایگزیکٹو پروڈیوسر اے زیڈ قاسمی ہیں۔ فلم کی شاندار سینماٹوگرافی سنی شاہ نے کی ، ایان حسین نے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیئے جبکہ پروڈکشن کی نگرانی اویس شمسی کی ہے-
یہ فلم 14 اگست 2025 کو ملک بھر کے سینما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کی جارہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ ناظرین کو محض تفریح ہی نہیں بلکہ ایک نیا نظریہ فکر بھی فراہم کرے گی۔