یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش، 30 ارب 21 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ منظور

یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش، 30 ارب 21 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ منظور


کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان (یو ایس سی) کی باقاعدہ بندش کو یقینی بنانے کے لیے 30 ارب 21 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی۔

واضح رہے کہ 1971 میں قائم ہونے والا یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن ایک سرکاری ادارہ تھا جس کا مقصد کم آمدنی والے گھرانوں کو رعایتی نرخوں پر بنیادی اشیائے ضروریہ فراہم کرنا تھا، اور یہ ملک بھر میں چار ہزار سے زائد ریٹیل آؤٹ لیٹس کے ذریعے کام کر رہا تھا، یہ ادارہ جولائی کے آخر میں باضابطہ طور پر بند ہوگیا تھا۔

حکومت کے فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق یہ گرانٹ ’یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے قومی خزانے پر طویل عرصے سے بوجھ ڈالنے والے مالی مسائل کو ذمہ داری کے ساتھ حل کرنے کا ایک بڑا قدم ہے‘ ، اور اس سے ادارے کی بندش سے متاثر ہونے والے ملازمین کے مفادات کا بھی تحفظ کیا گیا ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’ حکومت، ملازمین کو ان کے واجبات کی ادائیگی، معاوضہ اور بقایاجات کی منظوری کے ذریعے یہ یقینی بنا رہی ہے کہ انہیں ان کا حق ملے، جس سے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش کے سماجی اور معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے۔’

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور متعلقہ وزارتوں، محکموں اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹری اور سینئر حکام شریک ہوئے، جبکہ وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے آن لائن شرکت کی۔

پریس ریلیز کے مطابق ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ وزارت صنعت و پیداوار، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش کے لیے درکار مالی ضروریات کو مزید منظم کرے گی۔ مزید کہا گیا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے اثاثے، جن میں جائیدادیں بھی شامل ہیں، موجودہ مالی سال کے دوران فروخت کیے جائیں گے تاکہ بندش کے اخراجات کو جزوی طور پر فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پورا کیا جا سکے۔

کابینہ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ادارے کی بندش ’ منظم اور شفاف انداز میں’ کی جائے اور اس کے واجبات کو جزوی طور پر کارپوریشن کی جائیدادوں کی فروخت سے پورا کیا جائے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ’ منظور شدہ مالی پیکیج حکومت کے ملازمین کی فلاح و بہبود کے تحفظ اور کارپوریشن کے آپریشنز کو ختم کرنے کے عمل میں مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔’

خیال رہے کہ اس ہفتے کے آغاز میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو آگاہ کیا گیا تھا کہ حکومت یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے ملازمین اور وینڈرز کو ادارے کی بندش کے بعد 27 ارب روپے کے واجبات 2 مراحل میں ادا کرے گی۔ گزشتہ ہفتے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش کے بجائے اس کے انتظام اور کنٹرول کو مضبوط بنائے، اور خبردار کیا تھا کہ اس اقدام سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔




Courtesy By Such News

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top