کراچی: پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں غیر معمولی کمی جبکہ سندھ میں نسبتاً بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔
31 جولائی 2025 تک پنجاب میں کپاس کی پیداوار جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 3 فیصد زائد تھی۔
اب 15اگست کو پچھلے کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6 فیصد کم ہو گئی ہے۔
جبکہ سندھ میں اکتیس جولائی کو پچھلے سال کے مقابلے میں 47 فیصد کمی اب 15اگست کو 24فیصد تک محدود ہو گئی ہے۔
جبکہ توقع ہے کہ آئندہ دو ہفتوں تک یہ کمی مزید کم ہونے سے کپاس کی قومی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ سامنے آئے گا۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایاکہ پنجاب کے مختلف کاٹن زونز میں ہونیوالی بارشوں کے باعث کپاس اور روئی کا معیار متاثر ہوا۔
ٹیکسٹائل ملزکی جانب سے متاثرہ روئی کی خریداری میں عدم دلچسپی کے باعث پنجاب کے کئی شہروں میں کئی جننگ فیکٹریاں غیر فعال ہونے سے۔
جننگ فیکٹریوں میں مذکورہ دو ہفتوں کے دوران کپاس کی آمد میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔
لیکن توقع ہے کہ جاری دو ہفتوں کے دوران غیر فعال جننگ فیکٹریاں دوبارہ فعال ہونے سے پنجاب میں کپاس کی آمد میں بھی بہتری سامنے آئے گی۔
انہوں نے بتایاکہ پی سی جی اے کے جاری تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق 15اگست تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 17فیصد کی کمی۔
مجموعی طور پر 8لاکھ 87ہزار 400 گانٹھوں کے مساوی پھٹی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے۔