عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ یوکرین کے جانب سے روسی توانائی تنصیبات پر بڑھتے حملوں کے باعث روسی تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کا خدشہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق کاروباری سرگرمیوں کے دوران برینٹ کروڈ فیوچرز 3 سینٹ (0.04 فیصد) بڑھ کر 67.76 ڈالر فی بیرل۔
جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ فیوچرز 7 سینٹ (0.11 فیصد) اضافے سے 63.73 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔
روسی حکام کے مطابق اتوار کو یوکرین کے ڈرون حملے کے باعث روس کے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹس میں سے ایک کے ری ایکٹر کی استعداد میں کمی آئی۔
اور اُست لوگا فیول ایکسپورٹ ٹرمینل پر شدید آگ بھڑک اٹھی۔
اس کے علاوہ، روس کی نووشاختنسک ریفائنری میں بھی یوکرینی ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ اتوار کو مسلسل چوتھے دن جلتی رہی۔
یہ ریفائنری سالانہ تقریباً 5 ملین میٹرک ٹن تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور زیادہ تر فیول برآمد کرتی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائی کامور نے کہا کہ یوکرین روسی آئل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔
جس کی وجہ سے خام تیل کی سپلائی میں خلل کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔