اسٹیٹ بینک کا کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دینے سے انکار، مناسب ریگولیٹری فریم ورک پر زور دیا

اسٹیٹ بینک کا کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دینے سے انکار، مناسب ریگولیٹری فریم ورک پر زور دیا


اسٹیٹ بینک نے مناسب ریگولیٹری اور لائسنسنگ فریم ورک تیار ہونے تک ڈیجیٹل (کرپٹو) کرنسیوں کو قانونی قرار دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے بورڈ کا پہلا اجلاس وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بلاک چین اینڈ کرپٹو بلال بن ثاقب کی صدارت میں ہوا۔

اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ مناسب ریگولیٹری اور لائسنسنگ فریم ورک تیار ہونے تک ڈیجیٹل (کرپٹو) کرنسیوں کو قانونی حیثیت نہیں دی جائے گی۔

اس کے ساتھ ہی پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کا پہلا بورڈ اجلاس وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بلاک چین اور کرپٹو، بلال بن ثاقب کی صدارت میں منعقد ہوا۔

جس میں کرپٹو کرنسیز کے لیے آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خصوصی طورپر شرکت کی۔ اجلاس میں شریک حکام کے مطابق اجلاس میں ڈیجیٹل کرنسیوں کو فوری طور پر قانونی قرار دینے۔

 اور ڈیجیٹل کرنسی میں لین دین کی ممانعت سے متعلق اسٹیٹ بینک کا سرکلر واپس لینے پر غور کیا گیا تاہم اسٹیٹ بینک نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے ممانعت کا سرکلر قبل از وقت واپس لینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جب تک مناسب ریگولیٹری اور لائسنسنگ فریم ورک قائم نہیں ہو جاتا۔

اس وقت تک ڈیجیٹل کرنسی میں لین کی اجازت دینے سے سنجیدہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

عبوری قانون سازی کے تحت ورچوئل ایسٹ سروسز کیلیے ورچوئل ایسٹ اتھارٹی کا لائسنس ضروری ہے۔

اجلاس میں موجود بعض شرکا کا کہنا تھا کہ موثر ریگولیٹری اور لائسنسنگ رجیم کیلیے مزید 6 سے 8 ماہ لگ سکتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے 2018 کے جاری سرکلر میں تمام مالیاتی اداروں کو ورچوئل کرنسیوں اور ٹوکنز میں لین دین سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ان ہدایات میں نہ صرف کرپٹو کرنسیز کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے بلکہ مالیاتی اداروں کو پابند کیا گیا ہے۔

کہ وہ ایسی تمام ٹرانزیکشنز کومشتبہ قرار دیتے ہوئے فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ کو رپورٹ کریں۔

غیرقانونی قرار دی جانیوالی ورچوئل کرنسیوں میں بٹ کوائن، لائٹ کوائن، پاک کوائن، ون کوائن، ڈاس کوائن، پے ڈائمنڈ اور انیشیئل کوئن آفرنگ ٹوکن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب گزشتہ ہفتے خبردار کرچکے ہیں کہ بے قاعدہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی وجہ سے پاکستان کو دوبارہ فیٹف کی گرے لسٹ میں شامل کئے جانے کا خدشہ ہے۔

وزارت خزانہ کے ہینڈ آؤٹ کے مطابق پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے بورڈ کے پہلے اجلاس میں بورڈ نے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(NCCIA) کے تعاون سے ایک کمپلینٹ پورٹل قائم کرنے کی منظوری دی۔

تاکہ ورچوئل اثاثہ جات سے متعلق مسائل اور شکایات کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔

بورڈ نے اتھارٹی کو بین الاقوامی اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررازم کے معیارات سے ہم آہنگ بنانے۔

اور اتھارٹی کے بنیادی فریم ورک کی تیاری کیلئے خودمختار اور ورچوئل اثاثہ جات کے ماہرین کو بورڈ میں شامل کرنے پر غور کیا۔

بورڈ نے سینڈ باکس تجربات، ٹیکسیشن پالیسی، ریگولیٹری ڈرافٹنگ اور بین الاقوامی تعلقات کیلئے کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔

مجوزہ لائسنسنگ فریم ورک کا مسودہ مشاورت کیلئے بورڈ ارکان کو پیش کیا گیا جسے آٓنیوالے دنوں میں حتمی شکل دی جائیگی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ چھ ماہ تک اتھارٹی کا ہر مہینے دو بار اجلا س بلایا جائیگا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اتھارٹی کے قیام کو پاکستان کی اقتصادی ترقی میں ایک اہم سنگ میل اور عالمی ورچوئل اثاثہ جات کی معیشت میں پاکستان کی قیادت کیلئے کلیدی قرار دیا۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ اتھارٹی مالی سالمیت کو برقرار رکھتے ہوئے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں جدت، سرمایہ کاری اور مواقع کو فروغ دے گی۔

ہمارا مقصد ملکی سطح پر اعتماد پیدا کرنا اور پاکستان کو عالمی سطح پر ورچوئل ایسٹس اکانومی میں ایک پیش رو ملک کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔




Courtesy By Such News

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top