پاکستان نے بدھ کو ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے پالیسی پر مبنی قرضہ جات کے لیے مزید تعاون اور نئی معاونت کی درخواست کی ہے تاکہ معیشت کے مختلف شعبوں، بشمول موسمیاتی تبدیلی، انفرااسٹرکچر اور وسائل کی تنظیم نو کو گرین بانڈز اور ڈیبٹ فار نیچر سواپ جیسے عالمی مالیاتی آلات کے ذریعے سہارا دیا جا سکے، یہ درخواست نئے 10 سالہ شراکتی منصوبے کے تحت سامنے آئی ہے۔
زرائع کے مطابق آئندہ براہِ راست مالی معاونت اور مارکیٹ پر مبنی فنانسنگ کے آلات میں تعاون کی فہرست وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساتو کاندا کے ساتھ شیئر کی، جو جاپان کے سابق وزیر خزانہ ہیں اور فروری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورے پر پاکستان آئے۔
وزیر خزانہ نے توانائی کی منتقلی، موسمیاتی لچک، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس، افرادی وسائل کی ترقی اور وسائل کے مؤثر استعمال جیسے شعبوں میں گہرے تعاون کے لیے پاکستان کی ترجیحات پر گفتگو کی۔
انہوں نے اے ڈی بی کی پاکستان کے لیے درمیانی مدت کی مضبوط وابستگی کا خیر مقدم کیا اور پالیسی پر مبنی فنانسنگ، کیپٹل مارکیٹس کی ترقی، نجی شعبے کی شمولیت اور گرین بانڈز، بلینڈڈ فنانس اور ڈیبٹ فار نیچر سوآپ جیسے جدید آلات میں مزید تعاون کی حوصلہ افزائی کی۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پی پی پی منصوبہ جات اور شعبہ جاتی اصلاحات کے لیے اے ڈی بی کی شراکت داری طویل المدتی لچک پیدا کرنے میں اہم ہے، دونوں فریق 2026 سے 2035 تک کے لیے ’کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی‘ پر کام کر رہے ہیں، جو رواں سال جنوری میں اعلان کردہ ورلڈ بینک کے ساتھ 20 ارب ڈالر کے طویل المدتی فنانسنگ تعاون کے نمونے پر مبنی ہے۔
وزیر خزانہ نے اے ڈی بی کے صدر کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ٹیکس اصلاحات، ٹیرف میں توازن، سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور ریگولیٹری ڈھانچے کی جدید کاری کے لیے پرعزم ہے، انہوں نے آئندہ ’اے ڈی بی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026-2035‘ میں تعاون کی دعوت بھی دی، جو پاکستان کی درمیانی مدت کی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق ہے۔
جواب میں اے ڈی بی کے صدر نے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات اور لچک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے معیشت کو مستحکم کرنے اور ساختی اصلاحات میں نمایاں پیشرفت حاصل کی ہے، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اے ڈی بی پاکستان کی کلیدی ترجیحات، بشمول موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، آبادی سے جڑے چیلنجز، انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ اور وسائل کے استعمال میں معاونت جاری رکھے گا۔
ماساتو کاندا نے پاکستان کی مارکیٹ ڈائیورسفکیشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اے ڈی بی پانڈا بانڈ سمیت دیگر جدید فنانسنگ آلات کے اجرا میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے میں بھرپور شراکت داری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اے ڈی بی حکومتِ پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ پائیدار ترقی اور خوشحالی یقینی بنائی جا سکے۔
وزیر خزانہ نے اے ڈی بی کے صدر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا غیر ملکی دورہ پاکستان کے لیے منتخب کیا، انہوں نے اپریل میں واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں کا بھی حوالہ دیا اور اے ڈی بی کی کنٹری ٹیم، جس کی قیادت ایما فان کر رہی ہیں، کے تعمیری کردار اور وزارت خزانہ کے ساتھ مسلسل تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے وفد کو آگاہ کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں متعدد چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے، انہوں نے کہا کہ ملک نے کامیابی سے میکرو اکنامک فریم ورک کو مستحکم کیا ہے، مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری آئی ہے اور بین الاقوامی کریڈٹ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بہتری کے باعث قرض لینے کی لاگت کم ہوئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اے ڈی بی نے وسائل کے بہتر استعمال، خواتین کی مالی شمولیت، ڈیزاسٹر رسک فنانسنگ اور کلین انرجی ٹرانزیشن جیسے شعبوں میں پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے۔