روسی فضائی حملے سے یوکرین کے 18 شہری ہلاک

روسی فضائی حملے سے یوکرین کے 18 شہری ہلاک


روس نے یوکرین پر بڑا فضائی حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ حملہ جمعرات کی رات بھر جاری رہا، جس میں یورپی یونین اور برٹش کونسل کی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں، اس پر یورپی یونین اور برطانیہ نے اپنی، اپنی دارالحکومتوں میں روسی سفیروں کو طلب کیا۔

کیف سٹی ملٹری ایڈمنسٹریشن کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ مرنے والوں میں 2، 14 اور 17 سال کے بچے بھی شامل ہیں۔

یوکرینی فضائیہ نے کہا کہ کریملن نے رات بھر میں 598 ڈرونز اور 31 میزائلوں سے حملہ کیا، فضائیہ کے ترجمان یوری اِہنات کے مطابق یہ یوکرین پر ہونے والے ’سب سے بڑے حملوں میں سے ایک‘ تھا۔

روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے ’فوجی صنعتی اداروں اور فضائی اڈوں‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو اب بھی امن مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن زور دیا کہ ’خصوصی فوجی آپریشن‘ جاری رہے گا۔

ادھر، یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ’شہریوں کا دانستہ قتل عام‘ قرار دیا، ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’یہ روسی میزائل اور ڈرون حملے اُن سب کے لیے جواب ہے، جو ہفتوں اور مہینوں سے جنگ بندی اور حقیقی سفارت کاری کی اپیل کر رہے ہیں‘۔

یوکرینی حکام کے مطابق سیکڑوں ریسکیو اہلکار مختلف مقامات پر بھیجے گئے، جن میں یورپی یونین مشن کی عمارت بھی شامل تھی جو 1993 سے کیف میں قائم ہے اور یوکرین و یورپی یونین کے سیاسی و معاشی تعلقات کو فروغ دیتی ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لائن نے واقعے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کریملن یوکرین کو دہشت زدہ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، جو اندھا دھند شہریوں، بچوں، خواتین اور مردوں کو قتل کرتا ہے اور یہاں تک کہ یورپی یونین کو بھی نشانہ بناتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ صدر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حملے کے بعد بات کی ہے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے مذاکرات کی میز پر آنے کا مطالبہ کیا ہے، یورپی یونین نے بھی ماسکو کے سفیر کو برسلز میں طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثنا، برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر نے کہا کہ برٹش کونسل کی عمارت بھی حملوں میں متاثر ہوئی ہے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ’بچوں اور شہریوں کو قتل اور امن کی امیدوں کو تباہ کر رہا ہے۔‘

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ لندن نے روسی سفیر کو طلب کیا ہے اور ’یہ قتل و غارت اور تباہی اب بند ہونی چاہیے۔‘




Courtesy By Such News

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top