وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا کہ انہیں سیاسی شخصیت کے خلاف پیش ہونے کے لیے 7 کروڑ روپے بطور فیس کی پیشکش ہوئی تھی۔
نکتہ اعتراض پر اپوزیشن رکن لطیف کھوسہ نے کہا کہ 26 آئینی ترمیم کے بعد ایوان اور عدلیہ کو دفن کر دیا گیا ، سپریم کورٹ کی فیسوں میں اضافہ کیا گیا ، تھوک کے حساب سے رہنماؤں اور ورکرز کو جھوٹی گواہیوں پر سزا سنا دی گئی ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مقدمات کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں ، سپریم کورٹ کا کام ہے کہ وہ عدالتی فیسوں پر کیا کرے۔
انہوں نے کہا کہ وکیلوں نے بھی اپنی فیسیں بڑھا دی ہیں ، لطیف کھوسہ ایک کروڑ سے کم فیس نہیں لیتے، مجھے تو آپ کی سیاسی شخصیت کیخلاف کیس میں پیش ہونے کے 7 کروڑ فیس کی آفر تھی جسے میں نے ٹھکراتے ہوئے سیاسی شخصیت کیخلاف پیش ہونے سے انکار کیا تھا۔